آج اشعار زَد کیے میں نے
زیر و زَر، پیش و مَد کیے میں نے
لفظ لفظوں میں ڈھال کر میں نے
ایک اِک کر کے صَد کیے میں نے
نظم نثری مجھے بھی لکھنی تھی
قافیے سارے رَد کیے میں نے
وزن ہوتا تھا میرے مصرعوں میں
اب کے بِن بحر و حَد کیے میں نے
ایک آہنگ ہی تھا لفظوں میں
بِن وَلَد اور جَد کیے میں نے

0
6