دل کی حالت بدل گئی ہوگی
بات آگے نہ چل سکی ہوگی
پاس رہ کر نہ بات کر پائیں
ہائے کس کی نظر لگی ہوگی
دل میں شکوے زباں پہ تالے ہوں
بے بسی جیسی بے بسی ہوگی
کیسے دنیا ملی خدا نہ ملا
آرزو میں کہیں کمی ہوگی
اب یہاں دور تک اندھیرا ہے
کٹیا مفلس کی جل بجھی ہوگی
وہ جو تاریکیوں میں روشن ہیں
ان کے باطن میں روشنی ہوگی
ہم غزل اس کو  مانتے ہیں نہیں
جو بھی دل سے نہیں کہی ہوگی

0
7