کسی خیال کا موسم عبور ہوتا رہا
جب اپنی ذات کا باہر ظہور ہوتا رہا
کسی نے خواب کی مٹّی سے گھر بنایا تھا
ہوا چلی تو وہ ہستی سے دُور ہوتا رہا
میں اپنے نام کی آواز ڈھونڈنے نکلا
ہر ایک شہر بے گنبد ضرور ہوتا رہا
وہ ایک حرف جو لکھّا نہیں گیا مجھ سے
سدا سخن میں وہ بین السّطور ہوتا رہا
چراغ جلتے رہے آسماں نہیں بدلا
اندھیرا جب ہوا پھر پُر زِ نُور ہوتا رہا
میں آئینوں سے گزرتا رہا تو یہ دیکھا
نہیں تھا عکس جو کامل فتور ہوتا رہا
کسی نے وقت کو مٹھی میں قید کر بھی لیا
مگر وہ ریت کی صورت نشور ہوتا رہا
نہ کوئی جیت نہ ہاروں کا تذکرہ اس میں
سفر ہی اصل تھا تحت الشّعور ہوتا رہا
یہ خامشی بھی مسلسل صدا رہی مجھ کو
تھا دل کا شیشہ ہمیشہ جو چُور ہوتا رہا
لگائے مجھ پہ بھی الزام کیا نہ دنیا نے
خدا کے فضل سے میں بے قصور ہوتا رہا
یہ کون شخص ہے جس کی دعا کا سوز و گداز
سبیلِ راحتِ اہلِ قُبُور ہوتا رہا
مجھے تو عشق نے معنی عطا کیے طارِق
ہر ایک زخم نیا اک سرور ہوتا رہا

0
5