دیکھ چلمن سے کیسا دھواں اٹھتا ہے
جل رہا سینہ ہوگا دھواں اٹھتا ہے
عشق میں لڑ پڑا جب صنم سے ملا
ٹوٹنے سے ستارا دھواں اٹھتا ہے
شمع کی لو تو روشن رہی رات بھر
ایک پروانہ مچلا دھواں اٹھتا ہے
زخم ہنستے ہی ظالم نے گہرے دئے
گھاؤ کو دل پہ چھوڑا دھواں اٹھتا ہے
جو پھپھولے تھے ناسور بنتے گئے
درد جب کافی ہوتا دھواں اٹھتا ہے
گرم صحرا کا منـظر رکھیں سامنے
شمس جب سر پہ دوڑا دھواں اٹھتا ہے
پاس ناصؔر ہو جزبات کا تو اچھا
من یہ نازک بھی ٹوٹا دھواں اٹھتا ہے

0
20