بڑی امید ہے ہمدم سخی سرور بلائیں گے
درِ اقدس دکھا کر وہ غلاموں میں بٹھائیں گے
مدینہ سے یوں دوری پر نہیں لگتا یہ دل میرا
سخی آقا بلائیں گے مدینے دوڑے آئیں گے
بھریں الطاف سے جھولی شہنشاہِ مدینہ ہی
جنابِ مصطفیٰ کو ہم دلی دکھڑے سنائیں گے
مدینے کا ارادہ ہے سنو ہادی کے اے پیارو
لئے گجرے درودوں کے مدینے مل کے جائیں گے
صلاۃ اُن پر پڑھیں سارے سلامِ عاشقانہ بھی
کرم فرمائیں گے دلبر ہمیں راہیں دکھائیں گے
مدینے میں چلے آئیں لئے دردِ دروں کو بھی
حبیبِ دو سریٰ آقا شفاعت بھی کرائیں گے
دلِ محمود سے سن لیں مدینہ یاد آتا ہے
ملے جو گیت دلبر کے درِ جاناں پہ گائیں گے

0
3