ربط ہر چیز میں قائم رکھا ہے
کارخانہ ہی مزین بنا ہے
عجز کو خاک سے نسبت جو ملی
انکساری کی صفت جو دیا ہے
عبدیت خاص عنایت سی رہی
بندگی وصف اجاگر کیا ہے
مستحق لعن بھی ملعون بنا
ناز کے زعم میں شیطاں پھنسا ہے
فخر تو چیز بری خوب ٹھری
کس طرح طوق گلے بھی بندھا ہے
کبر زیبا تو محض ذات وراء
شان برتر سے ہی نور و ضیا ہے
خوف ناصر ذرا بھی ہوؤے اگر
آخرت کی کھیتی کو سینچتا ہے

0
55