| سوا ل کرتی ہے میری چٹوری رگ مجھ سے |
| کہ ٹوٹ پائی نہ کیوں ضبط کی گزگ مجھ سے |
| یہ لوگ توبہ کریں پیار سے ، بتادوں گر |
| جو لوگ پوچھتے ہیں میری تاز و تگ مجھ سے |
| جوان جسم کو ارمان تنگ کرتے ہیں |
| سنبھل رہی نہیں بابا سفید پگ مجھ سے |
| وہ کاٹ کھانے کو اب دوڑتے نہیں مجھ کو |
| شناسا ہو گیا میں ان سے ، اورسگ مجھ سے |
| اب اتنی بات پہ کیا اس سے دشمنی کر لوں |
| کہ دوست سوچ رہا ہے ذرا الگ مجھ سے |
| متاعِ دل میں اسے سونپنے ہی والا تھا |
| کچھ ایسے گفتگو کرتا تھا ایک ٹھگ مجھ سے |
| قریب آنے کا اب نام تک نہیں لیتا |
| ہے بد گمان کچھ ایسا وہ لائی لگ مجھ سے |
| میں اس کے ہاتھ کی چائے کا ہو چکا تھا اسیر |
| وہ لینے آئی تھی جس وقت خالی مگ مجھ سے |
| سنبھالے پھرتا ہوں اک گم شدہ کا عشق آسیؔ |
| انگوٹھی پاس ہے پر کھو گیا ہے نگ مجھ سے |
| قمرآسیؔ |
معلومات