| زندگی معذرت |
| مجھ سے جینے کا کب حق ادا ہوسکا |
| کوئی وعدہ نہ مجھ سے وفا ہو سکا |
| چاہا تھا تری ہر صبح ہو تازہ دم |
| اور شامیں بھی ساری ہی روشن رہیں |
| ہر قدم پر کوئی ساتھ چلتا رہے |
| خواب گاہیں بھی ساری ہی روشن رہیں |
| تیرے ہاتھوں کی خوشبو رہے جسم میں |
| تیری باتوں سے میں دل لبھاتا رہوں |
| غم کی پہچان تک سے میں قاصر رہوں |
| گیت خوشیوں کے میں گنگناتا رہوں |
| سب کا سب اس کے برعکس ہی ہو گیا |
| میرا کچھ بھی نہیں اب تو باقی رہا |
| خوشیاں بھی روٹھ کر اک طرف چل پڑیں |
| مجھ کو دامن میں دکھڑوں کا حصہ ملا |
| آنکھ اشکوں سے خالی نہیں ہو سکی |
| دل میں یادوں کی مشعل سی جلتی رہی |
| مختصر ہے بڑی ، ختم ہو جائے گی |
| عمر اس آس پر ہی گزرتی رہی |
| میرے اندر بھی خواہش کے ہیں مقبرے |
| آ کبھی ! ان کی چادر کشائی تو کر |
| ہاتھ جوڑے کھڑا ہوں اے پروردگار! |
| میری بگڑی ہوئی تو بنائی تو کر |
| آخری سانس تک بس یہی ہے خلش |
| کوئی وعدہ نہ مجھ سے وفا ہو سکا |
| میں ترے نام سے خود کو جوڑوں مگر |
| مجھ سے جینے کا کب حق ادا ہوسکا |
| محمد اویس قرنی |
معلومات