| دل فیصلہ سنائے تو دربار چپ رہیں |
| آنکھیں گواہ ہوں تو طرفدار چپ رہیں |
| اس نے کہا کہ عشق میں آزادی شرط ہے |
| زنجیر لے کے آئے طلب گار چپ رہیں |
| ہم نے شکست کھا کے بھی شکوہ نہیں کیا |
| فتحوں کا ذکر آئے تو سردار چپ رہیں |
| اس عشق کا حساب لگانے کی ضد نہ کر |
| سود و زیاں کے سارے خریدار چپ رہیں |
| وہ ہنس پڑا تو بحث کا عنوان مر گیا |
| اب فلسفے کے صاحبِ گفتار چپ رہیں |
| اک سچ نے شہر بھر کی روایت تباہ کی |
| اب مصلحت کے سارے علمدار چپ رہیں |
| محفل میں اس نے نام مرا لے لیا فقط |
| اب میرے دوست یار ، راز دار چپ رہیں |
| خود سے ملا تو اپنی صفائی نہ دے سکا |
| آئینہ بول اٹھے تو اداکار چپ رہیں |
| شاہدؔ گواہ بن کے کھڑا ہے ضمیر خود |
| اب میرے حق میں جو بھی ہیں غم خوار چپ رہیں |
معلومات