| محبتوں کو بھی اب اختیار چاہیے ہے |
| ہر ایک دل کو نیا اعتبار چاہیے ہے |
| جو اپنے آپ سے ملنے کا حوصلہ رکھے |
| اُسے بھی آئینۂٔ کردگار چاہیے ہے |
| یہ زندگی یوں اکیلے گزر نہیں سکتی |
| ہر ایک موڑ پہ اک راز دار چاہیے ہے |
| چراغِ ذات جلانا ہے تیرگی میں اگر |
| عمل ہو نیک وہی استوار چاہیے ہے |
| جہاں میں بانٹنے والوں کی قدر ہوتی ہے |
| غنا کی دولتِ دل بے شمار چاہیے ہے |
| کسی کے درد کو اپنا سمجھ کے دیکھ ذرا |
| دلِ بشر کو یہی کاروبار چاہیے ہے |
| جو حرفِ حق ہو تو لہجہ بھی حق شناس رہے |
| زباں کو سچ کا سدا اختیار چاہیے ہے |
| طلب سکون کی منزل ہے گر دعا بھی ہو |
| سعی سفر میں بھی اور انتظار چاہیے ہے |
| نہ تاج چاہیے ہم کو نہ تخت کی خواہش |
| بس ایک دل میں وفا کا دیار چاہیے ہے |
| جو اپنے رب کی رضا میں فنا ہوا اس کو |
| یہاں نہ شہرت و جاہ و وقار چاہیے ہے |
| صدا جو خاک سے اٹھّے فلک پہ جا پہنچے |
| بس ایک سجدۂ دل بار بار چاہیے ہے |
| زمانہ لاکھ اندھیروں میں ڈوب جائے مگر |
| چراغِ دل کو فقط ایک یار چاہیے ہے |
| ہے دُور فخر و تکبّر غرور سے طارق |
| ضمیرِ زندہ کو کچھ انکسار چاہیے ہے |
معلومات