جلا کر دل کو میرے خاک کر دے
گھڑی بھر میں یہ قصہ پاک کر دے
بعید از سرحدِ ادراک کر دے
شباب اور حسن کو بیباک کر دے
کسی بھی پل خِلافِ عقل و دانش
کرشمہ کیا بتِ چالاک کر دے
میں اس " تبدیلی " کا ہوں اک مقلد
جو خس کم اور جہاں کو پاک کر دے
اترتے ہی مری دریا میں کشتی
ہوا موجوں کو اور سفاک کر دے
سمجھ مت عشق کی چنگاری کو کم
شرر اک سارا جنگل راکھ کر دے
لگی اک چھوٹی سی بھی ٹھیس دل پر
ہماری آنکھوں کو نمناک کر دے
ذرا سی دیر کو آۓ پہ طوفاں
بھری بستی خس و خاشاک کر دے
یوں کہنے کو یہ بارش کا ہے قطرہ
صدف کے دل کو لیکن چاک کردے
تجھے معلوم ہے محشر کو برپا
تری کاکل کی اک پیچاک کر دے
اثر کوئی تو سوزِ شمع میں ہے
جو پروانوں کو مشتِ خاک کر دے
بڑا اعزاز اس نے اپنا جانا
کہ جس کو تو سپردِ خاک کر دے
ذرا سی جستجو اپنی ہے لیکن
تَہ و بالا زمیں افلاک کر دے
مجھے پھر عاقبت کی فکر کیوں ہو
شفاعت گر شہِ لولاک (ص) کر دے

0
2