مدینہ کی فضا بھانے لگی ہے
مہک سی خوابوں کی چھانے لگی ہے
کہیں بادِ صبا دل کو لبھائے
کہیں کچھ یاد تڑپانے لگی ہے
لبوں پر بول صلّ اللہ جاری
سکوں پھر روح بھی پانے لگی ہے
زیارت دم بدم چلتی رہی ہے
یہی مصروفیت کھانے لگی ہے
ادا شکرانے کا سجدہ ہو ناصؔر
کہ خواہش کیسی بَر آنے لگی ہے

0
22