ہو چکی شام کہ اک دیپ جلایا جائے
پی کے اک جام غمِ یار بھلایا جائے
کوئی ترکیب بتا دے ہمیں جاتے جاتے
کس طرح نقش ترا دل سے مٹایا جائے
جب بھی پیتے ہیں تو دل میں یہ خیال آتا ہے
کیسے دامن تری یادوں سے چھڑایا جائے
تھوڑی پینے سے تو مدہوش نہیں ہوتے اب
کیوں نہ کچھ اور یہ پیمانہ بڑھایا جائے
اب یہ کمرہ ہمیں ویران بہت لگتا ہے
تیری تصویر سے کمرے کو سجایا جائے
کوئی سنتا ہی نہیں کس کو سنائیں جاکر
خود کو چپ چاپ اذیت میں جلایا جائے
ختم توصیفؔ یہ قصہ ہی اگر کرنا ہے
رسم دنیا ہے کہ مقتل کو سجایا جائے

0
3