دنیا کی زندگی ہے سودا غرور کا
مثلِ سراب یہ اک دھوکہ ہے دور کا
دنیا میں کر اجالا اپنے عمل سے تو
ہر نیک کام تیرا دیپک ہے نور کا
جنت کے باغ ہیں یہ نعتوں کی محفلیں
محفل میں لے مزہ تو ناجی سرور کا
عشقِ خدا کی مے کا چلتا ہے دور یاں
آتا سرور سب کو جامِ طہور کا
دنیا میں جو رہے گا حلقے میں دین کے
حقدار پھر وہ ہوگا جنت کی حور کا

0
4