| جب سے لٹا ہے میرا گھر بار دوستو |
| کوئی بچا نہیں ہے غمخوار دوستو |
| قاضی جو ناچ دیکھے وہ پارسا ہوا |
| !ناچے جو گر طوائف بدکار دوستو |
| مجھ کو ہے مارنا تو الفاظ ہیں بہت |
| یوں ڈھونڈتے پھرو گے تلوار دوستو |
| یہ آستین میں رکھے سانپ ہیں سبھی |
| ان سے ملا ہے مجھ کو آزار دوستو |
| رکھا ہے قیس تم نے کیا عشق کے لئے؟ |
| حاکم نے وار دی ہے سرکار دوستو |
معلومات