اس گلی میں سحر نہیں آتی
راہ کوئی بھی گھر نہیں آتی
ایک مدت سے در کھلا رکھا
کوئی آہٹ ادھر نہیں آتی
سب کے عیبوں پہ بات کرتا ہوں
اپنی باری مگر نہیں آتی
دوستی تو ابھی سلامت ہے
بات پہلی سی پر نہیں آتی
ایک آواز تھی مرے اندر
اب وہ مجھ تک مگر نہیں آتی
سب کے چہروں کو پڑھ لیا میں نے
اپنی صورت نظر نہیں آتی

0
7