تم مجھے گر نبھا لیتے تو اچھا تھا
درد وغم سے بچا لیتے تو اچھا تھا
ٹکڑوں میں بٹ گیا ہوں جدا ہو کہ میں
تم جو اپنا بنا لیتے تو اچھا تھا
آنسو جو ضبط کے دل پہ گرتے رہے
آنکھ سے ہی بہا لیتے تو اچھا تھا
زخم تیرے رگِ جاں میں جا اترے ہیں
تجھ کو پہلے بھلا لیتے تو اچھا تھا
ہارے سب کچھ انا کی لڑائی میں ہم
ہم تجھے گر منا لیتے تو اچھا تھا
قبر تک ساتھ آئی ہیں یادیں تری
نقش تیرے مٹا لیتے تو اچھا تھا
زخم مرہم کہ قابل نہیں اب مرے
وقت پر ہم دوا لیتے تو اچھا تھا

0
2