آزما زور کتنا جو دشمن میں ہے
ولولہ جیت کا جو بسا دھن میں ہے
نا زمانے کی پرواہ یا فکر ہے
تجھ کو پانے کی دھن اب مرے من میں ہے
قابلِ دید رہتا سماں ہر طرف
جب شگوفہ کھِلے و چہکے گلشن میں ہے
مسکراہٹ و تبسم ہی کافی ہو بس
آگ لگ جاتی پھر کیسی چلمن میں ہے
نفس گر پاک ہو، مائلِ توبہ ہو
پارسائی بھی لے آئے باطن میں ہے
شرم و غیرت سے ناصؔر پشیماں ہو کچھ
بدنما داغ چھوڑا جو دامن میں ہے

0
16