خوش خصال و خوش خیال و خوش گماں رہتے رہے
ہم زمیں پر ہو کے مثلِ آسماں رہتے رہے
بیتے پل کو سوچ کر ماتم کناں ہوتے ہیں ہم
الفتوں کے دور میں کیوں بدگماں رہتے رہے
وقت کے دھارے میں ہم ایسے بہے کے آج تک
دوستوں اور دشمنوں کے درمیاں رہتے رہے
ہر کسی کو غمزدہ دیکھا تو سوچا بیٹھ کر
کون سے وہ لوگ تھے جو شادماں رہتے رہے
اس جہانِ نارسا میں کس نے پائیں منزلیں
ہم بھی ان کے جیسے بحرِ بیکراں رہتے رہے
دوسروں کو حق دلانے کے لیے گویا رہے
آپ اپنے واسطے ہم بے زباں رہتے رہے
جب ہمیں تکلیف سہنے کا سلیقہ آ گیا
زندگی کے روز و شب بھی مہرباں رہتے رہے

25