یہ کیسا ہوا شہرِ دل پر فُسوں ہے
کہ بستا نہیں جو یہاں پر سکوں ہے
جو کچھ بھی عیاں ہے وہی بے نشاں ہے
یہ آگاہی ہے یا خِرد میں جنوں ہے
نہ چہرے پہ ظاہر، نہ لفظوں میں روشن
مگر سانس ہر ایک سوزِ دروں ہے
میں جس سمت نکلا اُداسی ملی ہے
عجب میری راہوں کا رنگِ زبُوں ہے
ہزاروں کھڑے رستے میں سانپ میرے
مگر پھر بھی عزمِ سفر جُوں کا تُوں ہے

0
40