| میں دعوے دار نہیں ہوں کہ شب اجالتا ہوں |
| سحر تلک سہی تاریکیوں کو ٹالتا ہوں |
| زیادہ کام نہیں اس جہاں میں پاس مرے |
| سمے کی ہانڈی میں ایامِ عمر ابالتا ہوں |
| شرابِ عشق سے بھرتا ہوں عقل کا ساغر |
| مگر چھلکنے سے پہلے اسے سنبھالتا ہوں |
| میں چاہتا ہوں مجھے چھوڑ کر نہ جائیں کبھی |
| ہر ایک درد کو بچوں کی طرح پالتا ہوں |
| خدا سے مشورہ کرنا ضروری ہو جائے |
| تو ایک سکہ خلا کی طرف اچھالتا ہوں |
| ہر ایک رات مجھے دیکھتی ہے حیرت سے |
| "میں اپنی نیند کے ملبے سے دن نکالتا ہوں" |
| دکھائی دیتا ہے آسیؔ مجھے یہ خواب اکثر |
| کہ اپنی ذات نئے خال و خد میں ڈھالتا ہوں |
| قمرآسیؔ |
معلومات