جب بھی ہو میری تمہیں خاص طلب آ جانا
کبھی بچوں کو ملانے کے سبب آ جانا
یہ جو ہم کو ہے پڑا کام چلو رہنے دو
ہاں ا گر میری ضرورت پڑے تب آ جانا
رو پڑا سن کے میں حالات ترے لوگوں سے
اب کے میں آپ سے کہتا ہوں کہ اب آ جانا
مان لیتا ہوں ترے پاس ابھی وقت نہیں
یہ تو کر سکتے ہو فرصت ملے جب آ جانا
دن تری یاد میں آنکھوں سے وہ گرنا آنسو
رات خوابوں میں یہ رخسار یہ لب آ جانا
گو کہ بیمار کا احوال نہ پوچھا تم نے
اب جنازے پہ گزارش ہے کہ سب آ جانا
رب کی تقسیم ہی ہے مہر مبشر بزمی
شوخی تیرے, مرے حصے میں ادب آ جانا

0
17