اُن کی صُورت میری صُورت ہو گئی
اُن کی میری ایک مُورت ہو گئی
وَہمِ دُوئی داغ تھا جو دُھل گیا
دُور دِل کی سب کَدورت ہو گئی
مَر گئی اور مِٹ گئی "مَیں" جِس گَھڑی
وہ گَھڑی تو شَبْھ مَہورت ہو گئی
مُجھ کو لینے آگئے قُدسی مَگر
اُن کو میری کیا ضرورت ہو گئی
مردِ کامل اُٹھ گئے ہیں بَزم سے
ساری دُنیا مثلِ عورت ہو گئی

0
4