| سامنے میز پر رکھے شیشے کے گلاس میں |
| رکا ہوا پانی |
| تمہاری آنکھوں کی طرح خاموش، ٹھنڈا |
| اور اتنا گہرا ہے کہ جھیلیں بھی حقیر لگیں |
| میں تمہیں چھونا تو چاہتا ہوں |
| مگر ڈرتا ہوں... |
| کہ میری انگلیوں کے پورووں میں دہکتی ہوئی |
| یہ نامعلوم سی آنچ |
| تمہارے موم جیسے وجود کو پگھلا نہ دے |
| سو میں اپنے زرد، کھردرے ہاتھوں سے |
| صحن میں بکھری وہ مٹی چنتا ہوں |
| جسے کل تمہارے ننگے، نازک پاؤں نے چھوا تھا... |
| میں نے اسے احتیاط سے گملوں میں ڈال دیا ہے |
| کہ شاید اس مسلسل اندھے پن میں |
| اس مٹی سے کوئی سبز، نازک کونپل پھوٹے |
| جس میں تیری مہک ہو... |
| اور سارا آنگن معطر ہو جائے |
| تمہارے ماتھے سے اترنے والی وہ مدھم سی چاندنی |
| اب آسمان پر نہیں... |
| میری آنکھوں کے سیاہ حلقوں میں جم گئی ہے |
| وہ سیاہ حلقے... |
| جو تیرے انتظار نے میری آنکھوں پہ ثبت کر دیے ہیں |
معلومات