لبوں سے چاہو تو کچھ بھی کہہ دو نظر تمہاری تو سچ کہے گی
نظر سے آکر نظر ملے گی تو بات آگے صنم بڑھے گی
دہک رہی ہے ترے بھی دل میں جو آگ مجھ کو جلا رہی ہے
تمہاری آنکھیں بتا رہی ہیں یہ آگ تم کو بھی لے جلے گی
کسے پڑی ہے کہ کیا کہے گا ہماری ٹھوکر میں ہے زمانہ
جو دل کہے گا وہی کریں گے یہاں کسی کی نہیں چلے گی
غرور تم کو بہت ہے لیکن یہ حسن دائم نہیں رہے گا
رہے سلامت یہ حسن تیرا دعا لبوں پر مرے رہے گی
رقیب سے کیوں مجھے گلہ ہو ہے خوبصورت پسند اس کی
انإ پرستی یہ ہو گی میری نہ داد اُس کو اگر ملے گی
مہک رہا ہے یہ دل کا گلشن ہوئی ہے جب سے تمہاری آمد
یہ ڈر بھی لیکن ستا رہا ہے بہار کب تک یہاں سجے گی

0
12