جو خود کو اس نگر میں باوفا کہتا رہا ہے
وہ میرے درد پر دل کھول کر ہنستا رہا ہے
زمانے کی نظر میں، میں ہی مجرم ٹھہرا آخر
مگر جو دل سے اترا، وہ کہاں بچتا رہا ہے
بچھڑ کر بھی تری یادوں سے دامن چھوٹتا کب؟
خیالوں کا یہ دریا تو یہیں بہتا رہا ہے
میں کس کو جا کے کہدوں اپنی تنہائی کا قصہ
کہ ہر اک شخص بس اپنا ہنر گنتا رہا ہے
محبت کی کٹھن راہوں میں، عادل بھی سدا سے
ہر اک الزام اپنے نام پر سہتا رہا ہے

0
1