جن کو ارض و سما میں ملی سروری
وہ ہیں دلبر خدا کے نبی آخری
حق حقیقت نبی کی ہے رازِ نہاں
آئی پردے میں پیاری صُوَر ظاہری
ہیں معالج دہر کے حبیبِ خدا
جس نے پامال کی صنعتِ آذری
لرزے طاغوت سارے جہاں میں جو تھے
توڑی سرکار نے ان کی شیشہ گری
پیارے دلبر کے درجے سوا سے سوا
اُن سے حاصل خلق کو ہوئی یاوری
توڑے اصنامِ کعبہ ورودِ نبی
اُن سے لرزے میں ہے صنعتِ آذری
ہر گھٹا رحمتوں کی مدینے سے ہے
پھر مدینے میں مانگے حزیں حاضری
پیارے منزل مدینہ ہے محمود کی
یہ منور مدینے میں اُن کی گلی

1
7
یہ نعت شریف حضور ﷺ کی:
ختمِ نبوت
عظمت و رفعت
رحمت للعالمین ہونے
شرک و باطل کے خاتمے
اور مدینہ منورہ کی محبت
کو نہایت خوبصورت انداز میں بیان کرتی ہے۔ اشعار قرآن و حدیث کے مضامین سے ہم آہنگ ہیں ۔

0