| مشکل تھا نکلتا کوئی خدشات سے باہر |
| لاتا نہ پکڑ کر جو اسے ہاتھ سے ، باہر |
| چلتے ہیں چلو عالمِ امکاں سے کہیں دور |
| رہتے ہیں زمانے کے خرابات سے باہر |
| حد اس کو دکھاتی ہے مرے لہجے کی تلخی |
| جب کوئی نکلنے لگے اوقات سے باہر |
| چھن جائے کہیں شہر میں تنہائی نہ میری |
| اس ڈر سے میں نکلا نہ مضافات سے باہر |
| ہر سُو نظر آئےگی اسے میری محبت |
| وہ شخص اگر دیکھے مفادات سے باہر |
| میں جس کے لیے محفلِ گریہ ہوں سجاتا |
| رہ جاتی ہے وہ بات مناجات سے باہر |
| کہنے کو شفایاب ہوا ہوں مگر اب تک |
| ذہن آیا نہیں پیار کے اثرات سے باہر |
| در اصل اسے ماحول میسر ہے موافق |
| اوقات نہیں چاند کی کچھ رات سے باہر |
| قمرآسیؔ |
معلومات