میرے دشمن تھے باوفا، کہہ دو
سارے قاتل ہیں پارسا، کہہ دو
سوچنا اور جاگتے رہنا
عارضہ ہے یہ لا دوا کہہ دو
ہم کو معلوم ہے کہ وہ کیا ہیں
تم انہیں لاکھ باصفا کہہ دو
کیوں چھپاتے ہو بات باتوں میں
جو بھی کہنا ہے بر ملا کہہ دو
ہم فقیروں سے خوف کیسا ہے
بے خطر تلخ و ناروا کہہ دو
جنبشِ لب کے منتظر ہیں سب
ایک ہی بار مدعا کہہ دو
دولتِ درد ہے جزائے سخن
درد کتنا ہے ؟ بے بہا کہہ دو

0
4