خدا کے دین کی تنویر زینبؑ
دیارِ کن کی ہیں تقدیر زینبؑ
نظامِ کبریا جس نے بچایا
وہ شاہِ دیںؑ کی ہیں ہمشیر زینبؑ
ہے برگ و گل کے لب پر یہی نغمہ
علی کی بولتی تصویر زینبؑ
قرآں اور پارے اسکے کربلا میں
مگر ان پاروں کی تفسیر زینبؑ
فلک کی کہکشائیں گردِ پا ہیں
ہے سورج صدقۂ تنویر زینبؑ
ملک بولے یہ پا کر رزق اکثر
تیرے صدقے کی ہے تاثیر زینبؑ
بنا دے ذرے کو یہ پل میں سورج
ہے لوحِ نور پر تحریر زینبؑ
یزیدی تخت الٹا ایک پل میں
وہ خطبہ تھا کہ تھی شمشیر زینبؑ؟
قصیدہ اسطرح پڑھتی ہیں حوریں
ہے ملکہ وارثِ تطھیر زینبؑ
عطائے فاطمہ زہراؑ ہے صائب
یہ کہہ کہ دیتی ہیں جاگیر زینبؑ۔

0
3