لب دعا گو ہیں سدا
شکر رب کا ہو ادا
رنج سے دوری رہے
راج سکھ کا ہو فدا
گر مصیبت آئے بھی
میں کروں حاصل رضا
لو لگاؤں آپ سے
رات دن ہے اک ندا
رحم شامل حال ہو
بخش دے ہم کو خدا
حکم کو بھی توڑ کر
ہو رہیں موجب خطا
سب گناہوں سے توبہ
مان لے بس التجا
لوٹ کر ناصر پلٹ
پھر نہ مالک ہو خفا

0
62