جس انسان کو چاہت الفت راس نہ ہو
دور رہے وہ شخص ہمارے پاس نہ ہو
لوگ اسیر بنے ہیں اپنی خواہش کے
قید یہ ایسی ہے جس کا احساس نہ ہو
مجھ کو عطا ہے جو کچھ میری دنیا میں
ملتا نہیں گر فضل خدا کا خاص نہ ہو
ٹھیک کریں اعمال جو اہلِ دنیا تو
اس دنیا کا ایسا ستیاناس نہ ہو
چار دنوں کی عمر ہے لگ جا نیکی میں
رخصت ہوتے دل میں ندامت، یاس نہ ہو
آس ہے جن کو شب بھر تارے گنتے ہیں
وہ کیوں جاگے جس کو کسی کی آس نہ ہو
عادل ریاض کینیڈین

0
7