| تہمتِ عشق سہتے ہیں چپ رہتے ہیں |
| سہمے سہمے سے رہتے ہیں، چپ رہتے ہیں |
| راس آنے لگا ہے محبت کا دکھ |
| اس لیے کچھ نہ کہتے ہیں، چپ رہتے ہیں |
| شورِ محشر بپا ہے مرے سینے میں |
| آگ کے دریا بہتے ہیں، چپ رہتے ہیں |
| بدگماں ہیں مری ذات سے وہ اگر |
| کہنے دو جو بھی کہتے ہیں، چپ رہتے ہیں |
| ایک مدت ہوئی، اب ترے ہجر میں |
| آنکھ سے آنسو بہتے ہیں، چپ رہتے ہیں |
معلومات