چلے ہم وہاں سے نظارے بدل کر
فلک پر سجائے ستارے بدل کر
اکیلے سفر پر رواں ہو گئے ہم
زمانے کے جھوٹے سہارے بدل کر
حدیثِ وفا کو رقم کر دیا ہے
جدائی کے موسم گزارے بدل کر
نگاہوں سے ان کی ہوئی بات ایسے
خموشی کے سارے اشارے بدل کر
بھنور میں خوشی سے اترنے لگے ہم
سفینوں کی منزل کنارے بدل کر
ادا ہو گئی ہیں رسومِ جفا سب
کئی زخم دل میں اتارے بدل کر
لبوں پر تبسم سجاتا رہا وہ
نگاہِ غضب کے شرارے بدل کر
محبت کے قصے سرائے میں جب تھے
نئے نام سب نے پکارے بدل کر
تجارت میں دل کی بچایا ہے کیا کیا
کئی فائدے لیے خسارے بدل کر

0
4