چہلم منانے بھائی کا زینبؑ جو آئی ہے
ظلم و ستم کی داستاں رو رو سنائی ہے
شمرِ لعیں کے وار پہ اماں کی تھی صدا
نہ مار میرے بچے کو میری کمائی ہے
جس پہ تھا سر تمھارا وہ نیزہ تھا خوں میں تر
آنکھوں میں میرے خون کی سرخی وہ چھائی ہے
اماں نے جو سیا تھا اے بھائی وہ ہاتھوں سے
کُرتا تمھارا خوں بھرا خواہر یہ لائی ہے
سینے لگا کہ رکھا ہوا ہے جو لیلؑی نے
بکھرے ہوئے یہ سہرے میں ماں کی کمائی ہے
بے شیر کا وہ لاشہ اچھالا تھا دشت میں
گرتا ہے وہ زمین پہ روتی خدائی ہے
رکھ کے لحد پہ بولیں سکینہؑ کی بالیاں
زنداں میں بیٹی مر گئی تیری اے بھائی ہے
صائب بیان کیسے ہو زینبؑ کے دل کا حال
کٹتے گلے کا سوچ کے دیتی دُھائی ہے

0
1