| دلربا کی دلکشی محسوس کی |
| دیکھ کر اس کو خوشی محسوس کی |
| جی رہا تھا تیرگی میں اب تلک |
| وہ ملا تو روشنی محسوس کی |
| اس نے جب آغوش میں مجھ کو لیا |
| زندگی میں زندگی محسوس کی |
| مجھ سے ہے الفت اسے بے حد مگر |
| دل نے اس کی بے رخی محسوس کی |
| درد نے آکر جو دستک دل پہ دی |
| عشق میں پھر بے بسی محسوس کی |
| جی رہا ہوں ہجر کا غم یوں لئے |
| ایک پل میں اک صدی محسوس کی |
| دل سے رویا ہوں میں رہبر ٹوٹ کر |
| جب کبھی اس کی کمی محسوس کی |
معلومات