اس امتحاں سے پہلے، وہم و گماں سے پہلے
میں رونقِ زمیں تھا، اس آسماں سے پہلے
یاں ہر سو تو ہی تو تھا، ارض و سماں سے پہلے
کردار بھی یہیں تھا، اس داستاں سے پہلے
اک شور ہو رہا ہے، اک ناگہاں سے پہلے
یعنی کہ کچھ تو طے ہے، دورِ زماں سے پہلے
اب کون بچ کے جائے اُس دشمنِ جہر سے
وہ آنکھ بھی یہیں ہے، ابروکماں سے پہلے
آئیے کہ ڈھونڈتے ہیں نَقْشِ پا ہم اس کے
وہ طور پر مکیں تھا کل لامکاں سے پہلے
ہر شخص دربدر تھا، اک آشیاں سے پہلے
سو رمزؔ بھی کہیں تھا، ان دو جہاں سے پہلے

0
105