دل نے جب ترکِ تمنّائے جہاں کر ڈالا
اپنے سینے میں ہر اک شہر نہاں کر ڈالا
عشق آیا تو مرے وہم کے بت ٹوٹ گئے
ایک سجدے نے عجب کارِ گراں کر ڈالا
ہم نے قطرے کی حقیقت کو جو پہچان لیا
بحر نے خود ہمیں سرمایۂ جاں کر ڈالا
رازِ ہستی کو سمجھنے کی جسارت کی تھی
ایک خاموشی نے سب کچھ ہی بیاں کر ڈالا
میں نے دیکھا جو تجھے خود کو بھلانا سیکھا
تو نے آئینۂ دل اور عیاں کر ڈالا
عمر بھر ڈھونڈتے پھرتے رہے منزل جس کو
ایک لمحے نے اُسے راہِ رواں کر ڈالا
خاک تھے خاک ہی رہتے ہمیں کیا تھا حاصل
تیری نسبت نے مگر رشکِ جناں کر ڈالا
اپنی ہستی کے تعیّن پہ بہت ناز تھا جو
عشق نے اُس کو بھی بے نام و نشاں کر ڈالا
درد ایسا تھا کہ لفظوں میں سمٹتا ہی نہ تھا
ایک آہٹ نے اُسے نغمۂ جاں کر ڈالا
طارِق اس دور میں ممکن ہے کہاں ایسی نظر
دل کا سودا ہے بِلا سود و زیاں کر ڈالا

0
9