نادان کو بالکل ہی سمجھنا بھی نہیں ہے
ضدی ہے ذرا اس کو بدلنا بھی نہیں ہے
گر شمع جلی رات گئے لاکھ یہاں پر
پروانے کو ہرگز ہی مچلنا بھی نہیں ہے
موسم یہ بہاروں کا نہ چھا جائے چمن میں
پھولوں کو تو پھر جیسے مہکنا بھی نہیں ہے
کمزوروں غریبوں سے بھی ہمدردی جتائیں
پیروں تلے مفلس کو کچلنا بھی نہیں ہے
طوفاں کا اشارہ جوں ہی مل جائے کسی کو
ساحل سے مگر تب تو نکلنا بھی نہیں ہے
محبوب نے ناصؔر ہمیں جب مان لیا تو
اب دل کو کسی حال سنبھلنا بھی نہیں ہے

53