رقیہ…
میں نے تم سے کبھی بلند آواز میں محبت نہیں کی،
میرا عشق ہمیشہ آہستہ بولا ہے—
اتنا آہستہ
کہ شاید تم سن نہ سکیں،
مگر اتنا گہرا
کہ میں خود اس سے بچ نہ سکا۔
میں نے تمہارا نام
اپنی نبض کی رفتار میں رکھ دیا ہے،
اب جب بھی دل دھڑکتا ہے
کوئی نرم سا حرف
اندر سے ٹوٹ کر نکلتا ہے۔
میں نے چاہا تھا
کہ تمہیں ایک خیال سمجھ کر بھلا دوں،
مگر تم خیال نہیں تھیں—
تم وہ حقیقت تھیں
جو بھلانے سے اور واضح ہو جاتی ہے۔
رقیہ…
میری راتیں تمہارے تصور کی سلائی سے جڑی ہوئی ہیں،
میں آنکھ بند کرتا ہوں
تو تم روشنی بن جاتی ہو،
آنکھ کھولتا ہوں
تو تم محرومی بن جاتی ہو۔
یہ کیسا تعلق ہے؟
جو پاس نہ ہو کر بھی
دور نہیں ہوتا۔
میں نے اپنے دل کو سمجھایا—
زندگی وسیع ہے،
راستے اور بھی ہیں،
چہرے اور بھی ملیں گے—
مگر دل نے کہا
نام ایک ہی ہوتا ہے
جس پر قسمت ٹھہر جاتی ہے۔
تم وہی نام ہو۔
میں نے خود کو آزاد کرنے کی بہت کوشش کی،
مگر ہر کوشش
تمہاری یاد کے گرد گھوم کر
وہیں آ ٹھہرتی ہے۔
اب میں نے لڑنا چھوڑ دیا ہے۔
اب میں مانتا ہوں—
عشق اختیار سے نہیں ہوتا،
یہ تو بس ہو جاتا ہے،
اور ہو کر
آدمی کو بدل دیتا ہے۔
رقیہ…
میں تمہیں حاصل کرنے کی ضد میں نہیں،
میں تمہیں سچ ماننے کی کیفیت میں ہوں۔
میری محبت کوئی شور نہیں،
یہ ایک مسلسل جلتی ہوئی لو ہے
جو نہ بھڑکتی ہے
نہ بجھتی ہے—
بس رہتی ہے۔
اگر کبھی تم نے
اپنے نام کو
کسی کی دعا میں لرزتے دیکھا،
اگر کبھی تم نے
اپنی غیر موجودگی کو
کسی کی زندگی میں موجود پایا—
تو ٹھہر کر سوچنا،
کہ کوئی تھا
جس نے تمہیں
بغیر شرط، بغیر دعویٰ، بغیر اعلان
محبت کی آخری حد تک چاہا تھا۔
اور اگر تم پھر بھی نہ لوٹو
تو بھی یہ سچ کم نہیں ہوگا—
رقیہ…
میں نے تم سے محبت کی تھی،
ایسی جو مانگتی نہیں،
ایسی جو تھکتی نہیں،
ایسی جو وقت کے آگے جھکتی نہیں۔
اور اب
میں اسی محبت کے ساتھ زندہ ہوں۔

0
5