| بے صدا چیخوں سے اب یہ عہد ویراں ہو چکا ہے |
| لب سیے میں نے، نظامِ ملک زنداں ہو چکا ہے |
| دی صدائیں عمر بھر اس خفتہ بستی کو مگر اب |
| چیخ میری مر گئی پر ذہن ناداں ہو چکا ہے |
| بک رہا ہے عدل ایوانوں کی منڈی میں سرِ عام |
| آدمی سستا ہوا اور خون ارزاں ہو چکا ہے |
| پی لیا میں نے ہلاہل، سی لیے ہیں خود ہی لب بھی |
| اس تماشے پر مرا دل خود ہی حیراں ہو چکا ہے |
| بجھ گئی مشعل، ضمیرِ شہرِ مردہ کا سنو شور |
| جہل کی تاریک شب میں ہر سُو طوفاں ہو چکا ہے |
| اب نہیں دیتا کسی کو میں جگانے کی صدا بھی |
| حرفِ بے آواز اپنا، نوحہ ساماں ہو چکا ہے |
معلومات