فطرت کے راز بے جاں ذروں میں تھے نہاں
قدرت نے روح سے جو سب کر دیے عیاں
اسباب پیدا کرکے سب کے لیے یہاں
دنیا کو پھر بنایا سب کے لیے مکاں
پہلے زمیں کو رب نے آب و ہوا دیے
پھر زندگی کے رب نے دیپک جلا دیے
دنیا میں خوبصورت پودے اگا دیے
پودوں کی ڈالیوں پر پھل بھی لگا دیے
سارے عناصروں کو ملنا سکھا دیا
مٹی کو پانیوں میں گھلنا سکھا دیا
پیاسے کو منہ سے پانی پینا سکھا دیا
ہر جاندار کو یوں جینا سکھا دیا
پودے کوروشنی میں بڑھنا سکھا دیا
مچھلی کو پانیوں میں رہنا سکھا دیا
طائر کو پر لگا کر اڑنا سکھا دیا
انسان کو زمیں پر چلنا سکھا دیا
انسان کو خدا نے علم و ہنر دیے
علم و ہنر سے اس نے پھر کوہ سر کیے
انسان نے خرد سے بم بھی بنا لیے
پھر زندگی کے اس نے دیپک بجھا دیے

0
3