عمر بھر ورڈ زبان کا رہا زہرا زہرا
روزِ محشر بھی تمہیں دیں سدا یا زہرا
کاش دکھلائے خدا دِن کوئی ایسا زہرا
خاکِ تربت پہ تری ہو مرا سجدہ زہرا
کتنا مھکم ہے وصیلہ وہ دعاؤں کا مری
بن گیا میری دعاؤں کا وسیلہ محکم
تم نے جو واقعہ چادر کا سنایا زہرا
مرضیئِ رب کا اشارہ ہمیں دے دیتا ہے
ہے معظم تیری تسبیح کا دانہ زہرا
ہاجرہ، آسیہ اورمریم و سارہ کی قسم
کوئی چھو بھی نہیں پایا ترا سایہ زہرا
ہیں غلام آپکے جتنے بھی، ہیں سب دل کے قریب
ااور دشمن سے سدا فاصلہ رکھا زہرا
دہن سے میرے جو خوشبوئے وفا آتی ہے
نام لیتا ہوں عقیدت سے تمہارا زہرا
قولِ مرسل ہے کہ اس اس نے ستایا مجھکو
تم کو دنیا میں ہے جس جس نے ستایا زہرا
سایۂِ رحمتِ عالم کی ہے تو پروردہ
تیری تربت پہ کوئی چھت ہے نہ سایہ زہرا
صرف دو ہی تو شہیدہ ہیں ولایت کی ظہیر
اک ہمیں تو زینب دلگیر ملیں یا زہرا

0