ظلمتِ شب میں امیدوں کا کوئی دیپ جلا
اپنی آنکھوں میں تمنا کا کوئی سیپ جلا
کیوں پریشاں ہے کہ دنیا نے تجھے چھوڑ دیا
اپنے اندر ہی محبت کا کوئی دیپ جلا
ہجر کی ٹھنڈی ہوا سے تو نہ گھبرا اے دل
یادِ جاناں میں ذرا درد کا لہیب جلا
جس میں شامل ہو مرے گاؤں کی پیاری خوشبو
عادل، اس دیس کی مٹی کا کوئی گیت جلا

0
3