| کھُل کے رہیے آپ کے دل کی کلی کھل جائے گی |
| سونی برسو سے پڑی ہے جو گلی کھل جائے گی |
| اس نے گر بے بس کیا ہے اس کی مرضی جو کرے |
| میں اگر راضی رہا تو بے بسی کھل جائے گی |
| شہر بھر سے واقفیت لازمی ہرگز نہیں |
| میں اسے جانوں وہ مجھکو زندگی کھل جائے گی |
| سر جھکانا اس کے در پر بس یہی کافی ہے کیا؟ |
| دل جھکا کر دیکھ لینا بندگی کھل جائے گی |
| ڈر لگے باطل سے ہم کو ؟ یہ تو ممکن ہی نہیں |
| تیرگی موجود ہو تو روشنی کھل جائے گی |
| وہ ستائے گا ہمیں؟ تب تو مزا آجائے گا |
| درد بڑھنے لگ گیا تو عاشقی کھل جائے گی |
| درد کی جب روشنائی سے لکھوگے دل پہ تم |
| باخدا طیب تمہاری شاعری کھل جائے گی |
معلومات