عقل کہتی ہے کہ عیش و مستی کر
عشق کہتا ہے کہ ذکرِ ربی کر
بندگی کرتی تقاضا ذکر کا
ذکر سے حاصل سکونِ قلبی کر
زندگی کرتی تقاضا فکر کا
فکر سے زندہ تو اپنی ہستی کر
جو رہے چلتے وہ آگے بڑھ گئے
وقت کہتا ہے کہ تو بھی جلدی کر

0
5