یہ سسٹم بدل کی کہانی پرانی، نئی رُت میں اب کے کہانی بدل دو
جو خود مانتے ہیں کہ سسٹم ہے بیٹھا، وہ خود ساختہ حکمرانی بدل دو
ہوئی چاہتوں کی تجارت پرانی، گریباں کی حالت ہے ویسی ہی اب تک
جو دعوے تھے کل تک بقا کے جہاں میں، وہ فرسودہ نعرہ زبانی بدل دو
جو آقا تھے کل تک اسیروں کے خود ہی، وہی اب پکاریں کہ صدمہ بڑا ہے
بگڑتی ہے جب خود ہی گھر کی فضا تو، مکاں کے یہ سارے مکانی بدل دو
ہوئی تلخیاں عام اب تو ہر اک سُو، کہ خاموش ہیں اب تو ایوان والے
جو کہتا تھا "سسٹم یہ بیکار ہوگیا ہے"، یہ فریبِ بیانی بدل دو
نہیں جس سے ملتی کبھی بھی شفا اب، وہ دستورِ ماضی مٹادو سرے سے
چلو اب کے اس بے وفا شہرِ دل میں، سیاست کی ساری روانی بدل دو

0
9