درِ قلب مخزنِ فتنہ گاہ یہ ارتدادِ مشام جاں
یہی معرکہ ہے نفس کا جو، یہی امتحاں ہے دوام جاں
کبھی نورِ حق کی کرن لگے، کبھی تیرگی کا ہجوم ہو
یہی کشمکش ہے حیات بھر، یہی داستانِ قیام جاں
کبھی ذکر سے ہو قرارِ دل، کبھی غفلتوں کا غبار ہو
یہی جنگ ہے سرِ راہِ دل، یہی امتحانِ کلامِ جاں
وہی دل اگر ہو نگاہ میں تو حجاب سب کے اٹھا کرے
جو نہ پا سکے تو اسی میں ہے کوئی راز پنہاں مقام جاں
یہ نفس امارہ کی چال ہے جو بچا رہا تو سنبھل گیا
کہ یہی ہے دشتِ فریب بھی، یہی کاروانِ نظام جاں
ترے در کی خاک اگر ملے تو ملے سکوں کی وہ روشنی
کہ یہی ہے اصلِ قرارِ دل، یہی ہے نشانِ سلامِ جاں
جو اسیر ارشؔدِ نفس ہو نہ خبر کسی بھی جہان کی
جو رہِ وفا میں قدم پڑے تو ملے نشانِ دوام جاں
مرزاخان ارشد شمس آبادی

0
2