کس کس کے لیے اب کوئی روئے دلِ ناکام
ماتم کدہ بن کر ہی رہا بزم کا انجام
شاخوں سے ہری رُت کے مسافر ہوئے رخصت
کلیوں کا جھکا سر ہے، لٹی رونقِ ایام
دہلیز پہ رک سی گئی کیوں دیدۂ نمناک
پردیس سے آتا نہیں اب کوئی بھی پیغام
تجھ کو تو بھلائے ہوئے گزری ہے جوانی
اور تو نے سنبھالے ہیں ابھی تک وہی ایام
جن کے لیے جلتا رہا فانوس کی صورت
اب مجھ کو سمجھتے ہیں وہی گردشِ گمنام
آئینے دکھاتا ہے جو ہر ایک کے چہرے
خود اپنے سیہ خانۂ باطن سے ہے بے نام

0
5