سر تاج آور ، فکرِ لاجِ پروری
رِفْعَت رَطْب اور ترجمانیِ ادب
پِسْتَہ دَہَن ، دَارُ الْمَحَن کے روبرو
آدابِ چاو پیشِ خدمت کرتا ہوں
نَو اِس اُفُقْ پر اُبھرے گا نَو آفْتاب
زِیسْتوں میں اپنی آنے نَو ہیں اب شَباب
یہ وقت عَہْد و پَیماں میں ہم تُم بندھیں
اور خیر کی خیرات رب سے مانگے بڑھیں
لِلّٰہ گَھڑْیاں لائیں یہ مُستَحکَمی
جوْڑی جو کَڑِیاں لائیں یہ مُستَحکَمی
اپنے مَہْر میں لِکْھنا میری کُل حَیات
اب سے ہیں اپنے سَانْجھے سب جَذْبات ، ساتھ
تُم اب سے میری میں تُمہارا ہَم سَفَر
ہم تُم وُجُودِ رَونَقِ شام و سَحَر
دونوں مُقَدَّر سے مِلے ہیں نیک ہم
رب زِنْدَگانی بَھر رہیں اب ایک ہم
تاباں رہے خوشیوں بَھرا اب یہ سَماں
عالَم دِلوں میں ہو مُحَبَّت کا جَواں
دونوں بنیں اِک دوسرے کے سَر پَرَسْت
اب سے تُمہارا میں ' مِری تُم ' تَن پَرَسْت
دم سے ترے اب سے مری مَہَکے حَیات
دم سے مرے اب سے تری چَہَکے حَیات
ہر اِک سَفَر میں اب قَدم مِلاتے چل
اب ساتھ ہر دُکھ میں وفَا نِبھنَاتے چل
دِل کے سُکُوں کی وَجْہ تیرے ہاتھوں میں
اِیْمان کی شِدَّت ہو تیری باتوں میں
جب آنا رَحْمَت اور بَرکَت لَانا گَھر
وِیْران چَمَن کو گُلوں سے لیں گے بَھر
رب کے خَلِیفَہ ساتھ ہوں پَیوَنْد ہم
مَرْضِی پہ رب کی ہو نَظَرْ کی خَم کَمَنْد
دِل سَر بَہ سَجْدَہ جائے ہو رب کے حُضُور
مُجھ کو شَہادَت ، تُم ہو پِھر ملکہء حُور
ہونا وَفا کی راہ میں تُم بے مِثال
تَب دیکھنا بِسمِلؔ بھی ہو گا با کَمال

0
13